ڈاکٹر احمد رضا جلالی پر 'اللہ سے جنگ'، 'فساد پھیلانے' اور جاسوسی کا الزام لگایا گیا
تہران26اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ایران میں سویڈش شہری ڈاکٹر احمد رضا جلالی کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق تہران کیاستغاثہ کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو 30 جوہری اور فوجی سائنسدانوں کے پتے اسرائیلی اہلکاروں کو دینے کے الزام میں قصور وار ٹہرایا گیا ہے۔ ان سائنسدانوں میں سے دو 2010 میں بم حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ استغاثہ نے سزا پانے والے مجرم کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم ایمرجنسی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر احمد رضا جلالی کی بیوی ویدا مہرینہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو ان الزامات میں قصور وار ٹہرایا گیا ہے۔تہران کے پراسیکیوٹر عباس جعفری دولت آبادی نے عدلیہ کے اہلکاروں کو ایک اجلاس میں مجرم کا نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ مجرم نے یہ معلومات اسرائیل کو رقم اورسویڈن کا رہائشی پرمٹ حاصل کرنے کے عوض فراہم کیں۔ڈاکٹر احمد رضا کی وکیل زینب طاہری کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احمد رضا جلالی اسرائیلی حکومت کے لیے کام کرتے تھے اور جس نے انہیں سویڈن کا رہائشی اجازت نامہ دلوانے میں مدد کی۔
دوسری جانب ڈاکٹر جلالی نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قید کے دوران دو باران سے زبردستی ویڈیو کیمرے کے سامنے اعتراف جرم کرنے اور پہلے سے لکھا گیا بیان پڑھنے کے لیے کہا گیا۔سویڈن میں اپنے دو بچوں کے ساتھ مقیم ڈاکٹر جلالی کی بیوی ویدا مہرینہ کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ کے باعث ان کے شوہر کی ذہنی اور جسمانی صحت خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر جلالی نے کوئی جرم نہیں کیا ہے لہٰذا انہیں رہا کیا جائے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر جلالی اسٹاک ہوم کے ایک ادارے میں لیکچرر تھے اور کاروباری دورے پر گزشتہ برس اپریل میں ایران گئے تھے جہاں انہیں انٹیلی جنس اہلکاروں نے گرفتار کرلیا تھا اور سات ماہ تک حراست میں رکھا۔